Chitika

Thursday, April 7, 2011

مہنگائی کا شور و غوغا اور ہم عوام : We People and noises of Inflation

مہنگائی کا شور و غوغا اور ہم عوام : We People and noises of Inflation

Apr 07, 2011 by Khursheed Alam

مہنگائی کا شور  اور ہم عوام


  واہ ری قسمت، ہم آج بھی اسی پریشانی میں مبتلا ہیں جب پاکستان انتہائی کوشیشوں اور بہت سی قربانیوں کے بعد آزاد ہوا تھا۔ اس گھڑی تو ہمارے اب رہنماوں نے تو اپنی دولت کے تجوری ملک کو کو سنوارنے اور بنانے کے لئے پاکستان کیلئے کھول دیئے تھے مگر آج ہمارے حکمراں ایسی ایسی پالیسیاں وضع کر رہے ہیں جن کا فائدہ تو وقتی طور پر انھی کا نظر آتا ہے۔ مگر اسکے کافی دور رس نتائج حاصل ہونگے جو کے کسی بھی حال میں پاکستان کے لیئے نا تلافی نقصان کے ساتھ ساتھ اس قوم کو تباہی کے دروازے پر لا کھڑا کرے گا۔

اب بھی یہ قوم انتظار پر ایک مسیحا اور انقلاب کے جس کی خواہش اور انتظار میں کئی نسلیں ختم ہو چکی ہیں۔ آج بھی میرا
دعویٰ ہے کے آج عوام تمام چیزوں کا بائکاٹ کرے اور نکل آئے پاکستان کی سڑک پر تو اس جلتے اور کھولتے لاوے میں سب کچھ جلنے کے بعد ایک زرخیز زمین کا وجود ہوگا۔ آخر ہم اتنے بیحس اور مفاد پرست کیسے ہوتے جا رہے ہیں ، کیا ہم وہی قوم ہیں؟ یہی قوم اگر قائد اعظم کے ستھ ہوتی تو نا ہی یہ پاکستان آزاد ہوتا اور نا ہی ہم آزاد قوم کے دعوے کرتے۔ ہم برطانیہ اور بھارت کے ہندو سے تو آزاد ہو گئے مگر61 سال سے وہی دیمک کی طرح کھا جانے والی جاگیردارہ اور وڈیرہ نظام کے ہاتھوں اپنی اور اس ملک کوکھوکھلا کرتے جا رہے ہیں۔ صرف سوچ رکھنے سے زندہ قوم نہیں بنتی عمل ضروری ہے۔ اور ویسے بھی جب تک ہماری نیت ٹھیک نہیں ہوتی ہم اس انقلاب کو نا ہی چلاسکتے ہیں بلکہ اس کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔
 مہنگائی کا رونا رونے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کچھ چینلز بخوبی ایسا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، میں تہھ دل سے سی این بی سی کا مشکور ہوں جو اس مشکل گھڑی میں آوز بلند کر رہی ہے۔ مگر یہ آواز نا ہی ہمارے حکمراں تک پہنچ رہی ہے بلکہ ہمارے نامذد کردہ سیاست دانوں کی کان میں جوں رنگتی نظر آ رہی ہے۔ کہاں گئے ہمارے لیڈر اور ان کے وعدے اور دعوے جو الیکشن کے دنوں میں کئے تھے۔ میری نظر میں اب کچھ ایسے لوگوں کو چننا ہے جنہوں نے تھوڑے عرصھ میں کافی کام کئے ہیں، جیسے  متحدہ قومی موومنٹ،  تحریک انصاف،  اے آر وائی  کے  کاشف عباسی  اور  ڈان نیوز  کے طلعت حسین  ایسے لوگوں کو ہمیں آگے لانے چاہیئں جنھوں کسی نا کسی مقام پر پاکستان اور قوم کی بلا تفریق خدمت کی ہے۔ جب ہم بار بار وہی لوگوں کو موقع دیتے ہیں تو ایک بار انہیں کیوں نہیں ذرا سوچیں اور اچھے سوچ بچار کے بعد ایک صیح فیصلہ کریں۔


Source of article Article : http://www.dotcrush.com/?p=930 

Wednesday, April 6, 2011

درندہ انسانی روپ میں : Cannibalism

درندہ انسانی روپ میں : Cannibalism

Apr 06, 2011  by Khursheed Alam
یہ کونسی گھڑی یہ کیسا وقت ہم پر آ پڑا ہے کہ ہم جو اصطلاحی طور پر مردار کا گوشت کھا تے تھے اب باقائدہ مردے انسان
کا گوشت کھانے لگ گئے۔

دو حقیقی بھائی  قبروں سے مردہ نکال کر اسکی گوشت کھاتے ہوئے پکڑے گئے۔ یہ واقعہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ اس دل
آزار انکشاف کیا فرمان عرف چھمہ نے جو اس ناپاک اور گنھاونےکام کا مرتکب ہوا۔ لوگوں کے دل دہل گئے اور حیرت اور پریشانی سے انگلیاں دانتوں میں دبا لی، مگر کیا کبھی کسی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں سنی، اگر تم غیبت کروگے تو ایسا ہی ہیں جیسے اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا۔ ہمارے لئیے یہ تو دردناک بات ہے مگر غیبت کرنے سے پہلے نہیں سوچتے۔ نا ہی کوئی پرواہ اپنے پیارے نبی کی یہ نصیحت۔

کاش ہم اس بات کو سمجھہ لیں تو ہماری صرف دنیا ہی نہیں آخرت بھی سنور جائے۔

پاکستان زندہ باد

خورشید عالم

Source of article Article :    http://www.dotcrush.com/?p=922

Today’s Youth and Pakistan : آج کا نوجوان اور پاکستان

Today’s Youth and Pakistan : آج کا نوجوان اور پاکستان

Apr 06, 2011 by dotcrush

آج کا نوجوان اور پاکستان


یوں تو ہر کوئ اس پر بات کرتا بھی ہے اور اپنی رائے بھی دینے سے گریز نہیں کرتے مگر کیا وجھ ہے کہ ہمارا نوجوان  اسے سنی ان سنی کرتا ہے اور تو اور اپنے بڑوں کو بھی یہ کہنے سے نہیں چکتے کہ آپ نے اپنی زندگی میں ایسا کونسا تیر
مارا ہے اگر آپ کچھ کر لیتے تو میں فری ہو کر کچھ کرنے کے قبابل ہوتا۔

باراہ  کئی لوگ تو  بلکل کنارہ کش اختیار کر چکے  ہیں۔ ان کا بیٹا یا بیٹی کیا کر رہی ہے اور کیا نہیں اسکا پتا کچھ اس طرح چلتا ہے جب پانی سر سے اونچا یا کوئ بڑی مصیبت گھر تک پہنچتی ہے۔ اب پاکستان کو کچھ قابل نوجوانوں کی ضرورت ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ آج ہم جس دوراہ پر کھڑیں ہیں پہلے کبھی نا کسی کے سوچ میں تھی اور نا ہی کسی کے گمان میں۔
ہمارا نوجوان طبقہ کا موبائل ، انڈین فلمیں ، گانے بجانے یا پھر محلے میں مستیاں آج کل کا بہترین مشغلہ اور ٹائم پاس ہے۔ موبائل میں کیا کچھ نہیں ہوتا، انسان نے اپنی آسائش ، آرام اور آسانی کے لیئے ایجادات کیں اور اس سے مستفید بھی ہوئے مگر ستم ظریفی پاکستانی نوجوان کی کہ وہ تو کچھ حد سے ہی گزر گیا مگر اس میں قصور بڑوں کا ہے جنہیں پیسے کمانے یا پیسہ جمع کرنے کی ہوس نے ان چیزوں پر نگرانی سے اجھل رکھا۔ یہ ہمارا اپنا قصور ہے جو آج اتنی بری طرح پھنس چکے ہیں نا ہی کوئی راستا دکھائی دیتا ہے اور نا ہی اس کا کوئی تدارک۔

قصور چاہے والدین کا ہو یا پھر اولاد کا دونوں ہی صورتوں میں اس کا خمیازہ نا صرف اس گھرانے کو بلکہ معاشرہ اور ملک
کو بھی پہنچتا ہے۔ آج کل نوجوان طبقہ نہایت پستی کی طرف جا رہا ہے کوئی روک ٹوک کوئی منزل کی طرف گامزن بھی نہیں کرتا۔ نا ہی کوئی مسیحا ہے اور نا ہی کوئی اس کے مطعلق سوچنا بھی گوارہ کرتا ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب مائیں قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسی شخصیت کی پروان چڑھائیں۔ کیونکہ وہ خود بھی اسی پستی کا شکار ہیں۔
آج ہر کوئی ایسے  رہنما [ لیڈر ] کا انظار کرتیں ہیں کوئی نجات دہندہ آکر یہ سب کچھ ٹھیک کردے، ایک ایسا انقلابی لیڈر کی آس میں جانے کب تک یہ پاکستانی اپنا خون جلاتے رہیں گے۔ میرا داعوہ ہے کہ آج کا نوجوان اگر خود اپنا احتساب کرنا سیکھہ لے تو منزل کہیں دور نہیں۔

میری التجا بھی ہے اور میری ہی نہیں اب ہم سب کی اولین ترجیح بھی کہ ہمارا نوجاوان طبقہ اب کجھہ اس ملک کی سوچے اور اپنا طرز عمل ایسا اختیار کرے جو سب کیلئے فائدہ مند ثابت ہو۔

آو پاکستانی جوان آج عہد کرو کہ آنے والے کل کو تم بدل کر رکھ دو گے ۔ ایک اچھا پاکستان ایک اچھی قوم بن کے دکھاوُ گے۔
آج عہد کرلو تو دنیا تمہاری ورنہ گزشتہ سے پیوستہ تم بھی آنے والی اپنی نسل کو بھی نہیں سدھار سکتے اور نا ہی ان میں کوئی رمک ہو گی کہ اپنے آپ کو سدھار سکیں۔


پاکستان زندہ باد

خورشید عالم

Source of article Article :   http://www.dotcrush.com/?p=904

Tuesday, April 5, 2011

حجاب – پردہ : Hijab – The Cover

حجاب – پردہ : Hijab – The Cover

Apr 05, 2011 by Khursheed Alam
یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے کافی لکھا اور اس پر بحث کی گئی ہے مگر اسے صحیح طریقے سے اجاگر نہیں کی گئی اسکی وجہ شائد ہم ہیپوکریپٹس ہیں یا پھر صرف تنقید براے تنقید پر ہی اکتفا کرتے ہیں – حجاب ایک ایسا عمل ہے جو کہ اسلام کی سب سے اولین فرائض عورتوں کے لیے کہا جائے تو بیجا نا ہوگا کیوں کہ یہی ایک عمل ہے جس سے اسلامی عورت یا مسلمہ کو تفریق کرتا ہے دوسرے مذاہیب سے اور یہی عمل ہماری عورتوں کو انکی عزت کرنے کا سبب بنتی ہے – مگر آج کل صرف یہ کتاب، حدیث، قرآن اور بزرگوں کی نصیحتوں میں تو پایا جاتا ہے مگر  ہمارے معاشرے سے یکسر غائب ہو چکی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ
ہمارا میڈیا ، فیشن ، رہن سہن، معاشرہ ، اور ہمارا اقدار سب کچھ بدل چکا ہے اور یہ کہنے میں کباہت نہیں کہ اس میں سارا قصور ہمارے بزرگوں کا اور ہمارا اپنا ہے – مغربی تہذیب و تمدن تو انکے اپنے لیے ہیں مگر اسلامی تمدن اور تہذیب تو خاص طور پر ہمارے نبی آخر زمان حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے الله سبحان و تعٰلی کا پیغام اپنے گھر سے شروع کرکے ہمارے لئے مشعل راہ بنائی- اور یہ باتیں تو قرآن اور حدیث میں کئی مقامات پر کافی تفصیل سے بیان کی گئیں ہیں مگر کیا مجال کے ہم نام نہاد مسلمان کہلوانے والے اس پر توجہ دیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کے ہمارے بزرگ اور بڑے اپنی اس کاوش میں فیل ہو چکے ہیں – نا صرف فیل بلکہ یہ تو اس بات سے بلکل کنارہ کش ہو چکے ہیں اور اپنی ذمہ داری کو یکسر بھلا چکے ہیں -
 جب بھی فرانس میں حجاب کو کالعدم قرار دینے کی حکومتی سطح پر کوشش کی گئی تب تب پاکستان میں اور دوسرے اسلامی ملکوں میں اس پر کافی بحث بھی چھڑی اور ریلیاں بھی نکالی گئیں مگر لا حاصل وجہ ہماری بحسی اور تقلید مغرب ہے- مجھے وہ دن یاد ہیں جب جمعت اسلامی پاکستان ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے پروگرام تبصرہ کیا کرتے تھے اور اس طرح کی فحاشی کو برا بھلا کہتے تھے اور اسے بند بھی کرا دیا کرتے تھے – یہ بہت ہی اچھا رویہ تھا اور برائیوں سے کفی بچا کرتے تھے- پروگرام لوگ اور پروڈیسرز بھی عام سے معافی مانگا کرتے تھے ہر چیز اپنے ٹھیک اعتدال پر تھی
اب وہ زمانھ ہے جہاں گندگی ایک فیشن اور فحاشی ایک ضرورت بن چکی ہے ہم نا صرف اس سے مہظوظ نظر آتے ہیں بلکھ اسے سب کے ساتھ دیکھنا بھی گوارہ کرتے ہیں اور تو اور اس پر اگر کبھی کوئی بات کی جاتی ہے تو بیکورڈ اور پرانے خیالات سے تشبیح دی جاتی ہے- اب ڈرامھ اس نوعیت کی بنائی جاتی ہے جس میں اگر عزت کو لٹتے ہوئے نادکھائی جائے تو ڈرامھ پاپولر نہیں ہوتا مگر یہ سب کچھ خود ادیب رائٹر کی تو سو سکتی ہے عام کی نہیں- 
کیا بات ہے میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآعلیہ وسلم کی جنہوں نے کیا خوب کہا تھا آخری زمانھ میں ان کی بےعزتی کی جائے گی جو عزت کے قابل ہونگے اور انھیں عزت دی جائے گی جو گندے اور برے ہونگے- آج کل ھم چینل، جیو چینل اور انڈس وژن سے جو کچھ دکھایا جا رھا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بہیں ہے- ہمارے نام نیہاد اینکرز میزبان عورتیں جن کے پاس اب دوپٹھ مئیسر نہیں ہے اپنے جسم کی خدوخال کی اس طرح پزیرآئی کرتی ہیں جسے دیکھنے کے بعد اندازہ ہو جاتا ہے کہ انکا گہرانھ کیسا ہوگا- فرانس میں حجاب کو ممنوعھ قرار دینے پر یہی خواتین پروگرام بھی کرتی ہیں اور اسے کنڈیمنڈ کرنے کے لئے ریلیاں بھی نکالتی ہیں اور ہمارے یہی چینلز واویلھ بھی مچاتے ہیں – ایک مشہور کہاوت ہے دوسروں کو نصیحت اور خود کو فضیحت-
 ہماری عورتیں صرف اس بات پر روتی نظر آتی ہیں ہمیں حقوق دی جائے جو کھ اسلام میں ہے- ہمیں عزت دی جائے ہمیں صیحیح مقام دیا جائے جو اسلام میں جائز حقوق کا کہا گیا ہے تو میرا سوال ہے ان عورتوں سے کیا اسلام میں اپنے جسم کو دکھانا ہی حقوق ہے؟ کیا فحاشی کو اسلامی قانون عورتوں کو اجازت دیتی ہے؟ نہیں ناممکن سی بات ہے- اگر فرانس ادھر پابندی لگاتا ہے حجاب کرنے سے تو وہ صرف نقاب کو کہتا ہے ادھر تو آپ دوپٹھ کو اتار پھینک چکی ہیں کونسا اسلام اور مذہبی رواداری آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے-
ہم بحس اور موقع پرست بن چکے ہیں- جب تک ہمارا معاشرہ ان فضولیات سے آری تھا ہماری زندگی اور ہمارا معاشرہ سکون میں تھا آج یہی معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہے- نوجوان طبقھ عجیب شش و پنج کا شکار ہے- جنہیں عزت و وقار دینا چاہئے آج وہ ذہنی قرب میں مبتلا ہیں- اب وہ وقت آچکا ہے جب ہماری عورتوں کو اپنے طور طریقے بدلنے ہونگے- یورپ اور امریکھ بلکھ مغربی دنیا میں تو خواتین اسلام قبول کرنے کے بعد اسلامی طور طریقھ اپنا لیتی ہیں مگر ہماری خوتین یکسر اسے بھلا چکی ہیں-
 اب بھی وقت نہیں گزرا اب بھی وہی روائت ہم دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں اگر ہم چاہیں تو- کیونکھ اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود کو بدلنے کی آرزو اور جستجو نا ہو- آج یہ سب کچھ ہماری غفلت اور دوسروں کی تقلید کا نتیجھ ہے- کیونکھ فرد سے معاشرہ بنتا ہے معاشرہ سے فرد نہیں جنم لیتا اگر آج ہم عہد کرلیں تو مجھے ایمان کامل ہے کے ہم پھر وہی مسلم ہونگے جو کے ڈاکٹرعلامھ محمد اقبال نے اپنے شعر کے ذرئے ہمیں بتانے کی کوشش کی

سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا  تجھ  سے کام  دنیا  کی امامت کا

  

تم سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افضان بھی ہو
تم  سبھی  کچھ  ہو بتاو  کھ  مسلمان بھی ہو


 زباں سے کھ بھی دیا لا الہ اللہ تو کیا حاصل
دل  و نگاہ  مسلمان  نہیں تو کچھ  بھی  نہیں


مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من  اپنا پرانا  پاپی  ہے برسوں  میں نمازی  بن  نا سکا


منفیات  ایک ہے اس  قم کی نقسان  بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم   پاک  بھی  اللہ   بھی  قرآن   بھی  ایک
کچھ  بڑی بات ہی ہوتی جو مسلمان بھی ایک 


یہی وہ چند اشعار ہیں جو اس وقت بھی علامھ اقبال نے محسوس کیا آج وہی بات میں بھی محسوس کر رہا ہوں شائد کے معاشرہ کے کچھ لوگ بھی – شائد یہ پڑھنے کے بعد کچھ معاشرہ میں تبدیلی آ جائے کاش ہر کوئ اپنی جگہ کچھ اسی طرح کرنے کی سوچ رکھے نہیں بلکھ اسے دوسروں تک پہنچائے تا کھ ہم پھر وہی قوم بن جائیں جو عہدوپیما ہم نے اللہ اور اس کے نبی سے کیا تھا- کاش یہ الفاظ اس یہیں تک محدود نا ہو اور پھیلے تا کے معشرہ کا ہر فرد اپنے گریبان جھانک لے اور اپنے آپ کو سدھارنے کی جستجو کرے کیونکھ ایک فرد سے ہی معشرہ بنتا ہے اللہ ہمارا حفظ و ناصر رہے ہمیں اپنی صحیح پہچان کرائے آمین
کیا یہ ہمارا معشرہ تھا؟ یا کسی کی تقلید؟ فیصلا آپ کے ھاتھ میں ہے


 




یہ اس سے بھی بڑھ کر ہمارے اوپر ایک تماچے کی مانند پڑا جب پاکستان کے اپنے چینل پر دکھایا گیا سمجھ نہیں آتی ہمارا سنسر بورڈ زندہ بھی ہے یا نہیں اور ہمارے نام نیہاد پڑھا لکھا طبقھ اور ادیب زندہ ہیں یا یہ رنگینیاں انہیں بھی مکمل طور پر نگل چکی ہیں



Source of article Article : http://www.dotcrush.com/?p=788

Monday, April 4, 2011

اتحاد – ایمان – یقین محکم : Pakistan Zindabaad

اتحاد – ایمان – یقین محکم : Pakistan Zindabaad

Apr 04, 2011 by sham
ہم زندہ قوم ہیں  پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان ہم سب کا پاکستان
پاکستان پاکستان پاکستان
ہم سب کا پاکستان

یہ وہ ملی نغمہ ہے جس کے الفاظ اور معنی کہیں ماضی کے کسی گوشے میں کھو چکے ہیں . یہ وہ نغمہ ہے جسے ہم اب صرف اور صرف آزادی پاکستان کے دیں صرف
سنتے اور گا تے ہیں مگر اس کے معنی اور وجہ کو آج تک اپنی زندگی میں نہیں ڈھال پا تے اور شائد کوشش بھی نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارے دانشور اسکے لئیے کچھ کر -سکنے کے قابل ہیں -
ایک وہ دیں تھا جب پاکستان میں زلزلہ آیا اور جب پھر اسی نغمے کی روح کو زندہ ہوتے ہوۓ دیکھا نہ صرف عوام میں بلکہ میڈیا پر ، ہماری حکومت کے مختلف اداروں میں اور ہمارے سیاست دانوں میں. پھر سیلاب آیا وہی کیفیت وہی جوش و خروش کی پھر رونمائی ہوئی -
اور اب اس ای سی سی وورلڈ کپ کرککٹ میں دیکھنے میں آیا- ملکی حالات اور جوش و خروش بتانے لگ گئے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور پائندہ قوم ہیں . حکومتی سطح پر – سیاسی – میڈیا بلکہ عوام الناس میں بھی کوٹ کوٹ کر نظر آیا . اس وقت نا ہی ہم پٹھان ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی اور مہاجر تھے صرف ایک زبان ایک مقصد اور ایک قوم بن کر ابھر کر آئے
نا ہی کوئی دنگا نا ہی کوئی فساد، نا ٹارگٹ کلنگ ، نا ہی کوئی سیاسی اکھاڑا اور مڈبھیڑ – ہر ایک کے چہرے پر ایک انجانی خوشی اور عزم و مقصد کے سوا کچھ بھی نہ تھا .
آخر وجہ کیا تھی ؟ وہ محرکات کیا تھے ؟
اس بارے مے کہتے سب ہیں مگر اسے نہ ہی اجاگر کرتے ہیں اور نہ ہی کوشش – آپ مانے یا نہ مانے اسکی وجہ ہے ایک عظیم مشن اور صرف اور صرف ایک ہی نقطہ نظر اور منشور ” اس وورلڈ کپ میں انڈیا کو ہر حال میں ہرانا ہے اور اسکی سر زمین پر پاکستان کا پرچم لہرانا اور قومی ترانہ بجوانا ”
اس بات سے ظاہر ہوگیا کہ صرف اور صرف واضح منشور اور ایک مقصد ہی اس قوم کو متحد اور جگا سکتی ہے-

یہ منشور ہمارے سیاسی پارٹیوں میں بھی ہے مگر منشور کی حد تک ہی ہے – انکی زبان اور بیان تک تو یہ مقاصد سننے کو ملتے ہیں مگر جب انکو پایہ تکمیل کیلئے عوام متخب کرتی ہے تو انکا منشور ایک دوسرا ہوتا ہے اور یہ منشور تمام سیاسی جماعتوں کا مقصد اور جنون ہوتا ہے کہ کیسے اپنی جیبیں اور بنک بیلنس میں اضافہ کریں وہ کون سے پروجیکٹس ہیں جنکے شروع کرنے سے ہمیں اور صرف ہمیں فائدہ ہو . اور مزے کی بات اس پر ہمارے تمام سیاسی جماعت متففق اور متحد ہیں اور وہی جماعت میں گھسے چند خاندان کے لوگ جو کہ وڈیرے اور  جاگیردار ہیں – چاہے کوئی بھی جماعت آئے فائدہ انہی چند خاندان کو ہی پہنچتا  ہے اور ہر ایک پارٹی میں خاندان کا کوئی نا کوئی فرد ضرور ہوتا ہے اور وزیر بھی .

ہماری قوم نہ صرف ان پڑھ اور جاہل ہے بلکہ اب تو ہمارے نو جوان بھی ویسے ہی ہوتے جا رہے ہیں – انہیں شیلا کی جوانی اور  کیوں منی بدنام ہوئی تو نظر آتی ہے – اس پر باتیں اسے سننا ، گا نا ، بجانا تو اچھا لگتا ہے اور اس کے لیے وقت بھی بہت ہے مگر ملک حالت کو سدھارنے کے لیے کوشش کرنا اسے سوچنا بھی گوارا نہیں- بہت سے نوجوان ایسے بھی پائے گئے ہیں جو کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوششیں اس انٹرنیٹ ، فیس بک ، بلوگس کے ضریعے پاکستان کو گندہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور موقع ملا تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر محب وطن پاکستانی ہے – جیسا کے وقار زکاہ اور اس جیسے کافی سارے اور – ایسے لوگ صرف یہی چیختے رہتے ہیں کے پاکستان نے ان کو کیا دیا شائد وہ نہیں جانتے کے اگر وہ جسے چاہتے ہیں انڈیا اگر وہ فٹ پاتھ پر پیدا ہو جاتے تو کسی گندی نالی کے کیڑے کی حیثیت رکھتے جو کہ انکا اب زہن ہے -
آخر ایسا کیوں ؟ یہ کیا ہے؟  کیوں ہے؟  اور کیسے درست ہوگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ایک کہ زہن میں تو آ تا ہے مگر جواب نہیں ملتا – جہاں تک میرا تجربہ ہے میں بھی اسی معاشرہ کا حصّہ ہوں، میں بھی اسی سیسٹم میں پلا بڑھا ہوں اور میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہمارا تدریسی نظام ہی غلط ہے – استاد ایک ایسا رتبہ جسے ہم تنقید کا نشانہ نہیں بنا سکتے مگر بنیادی وجہ ہی ہماری یہی ہے – جو پروفیشنل لائف میں فیل ہوتے ہیں وہی لوگ ٹیچنگ کے سب سے معتبر اور سب سے اہم کام کے لیے مخصوس کردئیے جاتے ہیں سارے ایسے نہیں ہوتے مگر زیادہ تر یہی ہوتے ہیں – ناکام لوگ اب آپ خود اندازہ کر لیں کے پھر یہ کیا کسی نو جوان کو ایک پرجوش اور کار آمد تیار کرینگے جنکے ہاتھوں میں آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سمبھا لنی ہے
ہمیں اب سوچنا ہوگا ہر ایک کو سوچنا ہوگا – نوجوان ہی نہیں اب ماؤں کو بھی سوچنا ہوگا، اساتذہ کو بھی ، دانشور کو بھی ، سیساسی جماعتوں کو بھی – ہر ایک کو اپنے اپنے مقام پر بہت کچھ کرنا ہے ہے –  اب ہم سب کا یہ کام ہے کیوں کہ ہمارے ارباب و اختیار اپنے نہاد اپر کے گئے ظلم کا حساب لینے کے لیے گڑھے مردے اکھیڑ سکتی ہے اس پر بیٹھ کر اپنا وقت اور پاکستان کا وقار اور پیسہ بلا وجہ لٹا سکتی ہے مگر ایسے اکد ام نہیں کرسکتی جس سے نو جوانوں میں شعور اجاگر ہو -
اب نا ہی قائد اعظم محمد علی جناح ہیں اور نا ہی انکے تحریکی ساتھی اور اب ہماری وہ مائیں بھی نہیں ہیں جو ایسے لیڈر پیدا کریں کیوں کے اب ہماری عورتیں، مائیں اور بیٹیاں انکا روز مرّہ کا کام انڈیا کے ڈرامے ، فلمیں، گانے سننے اور دیکھنے میں گزرتا ہے – اور تو اور اب ہمارے اپنے چننلز بھی ایسے واہیات ڈرامے دکھاتے ہیں جنھیں گھر میں فیملی کے ساتھ نہیں دیکھا جاسکتا- تو ایسے میں ہماری ماؤں کا زہن کیا ہوگا اور وہ کیا سوچ ہوگی کہ وہ ایسے لیڈر پیدا کر سکیں ؟ کبھی نہیں کبھی بھی نہیں ؟ پھر ایسےہی نوجوان پیدا ہوتے ہیں جنھیں شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی ہی اچھی لگتی ہے

میرے خیال میں ہماری جڑیں کھوکھلی کردی گئیں ہیں – فحاشی سے- ہم جسے ترقی سمجھتے ہیں – جسے آج کے دور کی ضرورت سمجھتے ہیں وہی پاکستان کے ہرے برےدرخت کی جڑھوں کو کھو کھلا کرتی جا رہی ہیں – اب ہمیں ہر مقام پر سوچنا ہوگا کچھ کرنا ہوگا – ابھی بھی دیر نہیں ہوئی – ہم جب کرککٹ کے لیے یکجان اور یکذبان ہو سکتے ہیں تو پھر اس ملک کو بچانے کے لیے کیوں نہیں؟ اب سب کو سوچنا ہوگا کرنا ہوگا ، ہمارے سیاسی پارٹیوں کو بھی ، لیڈر کو بھی ، استاد کو بھی ، ماؤں کو بھی، دانشور کو بھی، نو جوان کو بھی ہر جگا ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا دیکھنا ہوگا کہ کیا غلط اور کیا صحیح ہے – ورنہ یہ چیز ہمیں مکمل کھوکھلا کردیگی اور ایک دن ہمیں کوئی بھی تر نوالہ بنا سکتا ہے -
آئیے آج پھر ہم وہی عہد کریں جو کے قائد اعظم محمد علی جناح سے ہمارے آباءواجداد سے کی تھیں – متحد – ایمان – یقین محکم اسی کے ضرئیے ہم وہی وقار اور عزت حاصل کر سکتے ہیں جسکا خواب اور تعبیر کے لیے ہمارے پرخوں نے اپنی جان کا نذرانہ دیا – میری دعا ہے کہ الله وہ دن لیے جب ہم صرف اور صرف پاکستانی ہوں صرف پاکستانی -
الله ہماری مدد فرمائے اور ہمیں اپنے اندر سدھار پیدا کرنے کی خواہش پیدا کرے اور ہمارے لیڈر کے سوچ کو بھی بدل دے آمین
پاکستان زندہ آباد

Source of article Article :  http://www.dotcrush.com/?p=766

Saturday, April 2, 2011

New Night with Talat Hussain 31 March 2011

Apr 02, 2011 by dotcrush
A person (Talat Hussain) dedicated his life to open the eyes of Pakistani peoples, but how come if no one watching his program no one try to promote his views which are mainly Pakistani youth tongue. Anyway no offense but GEO trying to shows only those things which are not effected directly or indirectly their businesses with Indians but he is the person and we are Pakistani youth salute you (Talat Hussain) and Dawn news to bring us the reality of Indians thoughts not only news anchor or news media even their so called Artists, actresses and actors doing same thing what they trying to do in the past.
Why they doing daily basis! Why not? actually we were not get indenpendence from Britsh Government from them too, that’s why they always trying to let down and promoting as bad peoples lives in Pakistan and the whole nation are corrupt. You need to know their dirty mind thoughts this is really explosive materials gathered by Talat Hussain and he wanted to open our eyes but on fortunately we are not willing to open our eyes. We love their music, movies, actor, actress and musicians, because of our own media policy our government policy…
Indian doesn't know about the cricket this is the reality in this picture, no batsman ever out if they hit the stumps during running. It was a very good funny joke from Afridi. Consult any good Crickters you've to learn something about cricket Indian Media :P

At this stage I wish that our youth trying to do soemthing about their movies showing on our Cenima, TV channels and Cable Channels. Through this trade they got lots of income to promote their economy. Please stand up against palying their movies on Cenima, TV channles and Cable Channels now time is come to show our strenght and values because they hitted our values and slaging with our nations.
Please watch whole video it’ll show you the reality of Indian thoughts. Amir Sohail Former Test Cricketer, Inzimam-Ul-Haq Former Test Cricketer and Mohsin Hassan Khan Former Test Cricketer in Fresh Episode Of News Night with Talat in Dawn News and Talk With Syed Talat Hussain.




Source of article Article : http://www.dotcrush.com/?p=554

Thursday, March 31, 2011

It’s a part of the game, lost or win

It’s a part of the game, lost or win

Mar 31, 2011 by dotcrush
It’s a part of the game, lost or win. When 2 teams play the game face to face one will be a winner and other loser. Pakistan Cricket team fights till last balls with their last wicket to win this ICC world cup 2011, but the day and night is the best for Indians that’s why India won the match. But at the last but not the least our team efforts it’s outstanding during this tournament because The Team Pakistan not in the favorite list nor even the past few years they showing we are the best. Here we are all Pakistani wish him all the best in next matches not only players, including the couches Waqar Younus and Aqib Javed. Somehow, many people critic on Waqar Younus because they are not willing to give him respects and honor him to couch the un-form Pakistan Cricket Team as a world cup winner.

When Wasim Akram was captain on last back two world cup, not only kicked out Inzemam, Wasim Akram and Waqar Younus at that time we’ve to kick Younus Khan as well. Throughout his career he unable to show he is a senior player not even tried to justify his selections. I don’t know who is behind him to protect him again and again. We lost the match because of only one player Younus Khan; he dropped the catch including bad fielding. During bating he played like a first debut match. Awesome, I think at time match turned towards Indians. What about Misbah… Oh no again and again why is selected? Who is he? A hero a super class batsman, I think I can play much much better than Misbah-ul-Haq.
Afridi awesome, a great captain and a great person, we are salute you Afridi you are the BOOM BOOM. We wish all the best for next ICC World Cup.
The reasons of down our Cricket Team moral:
1- Telephones calls from our President
2- Telephone calls from our Prime Minister
3- Continuously contacting via telephone Aridi by  Rahman Malik
4- Daily press conferences by team
5- No given a chance to Shoaib Akhtar
6- Lower confidence and high pressure of Umer Gul as a main striker (Required Shoaib Akhtar to decrease his pressure)
7- Selections of Younus Khan and Misbah-ul-Haq (better players available in our street)
8- Over confidence build up by our Media the main key player is GEO.
9- Javed Miandad (no contribution by him to teach how to bat; Pakistan players but happy to achieve appointed as PCB’s Director General.
Must require producing good cricketers and players:
1-      Crack down influences of previous players such as Imran Khan, Wasim Bari, Aamir Sohail and Moin Khan.
2-      Slip System (Parchi System)
3-      Kick out Younus Khan
4-      Kick out Misbah-ul-Haq
5-      Kick out Kamran Akmal
6-      Kick out Ahmed Shahzad
7-      Kick out Aijaz Butt
8-      Not allow to contact during any tournaments to any players such as cell phone, media, internet, press conferences and politicians.

 I wish someone can do this to protect our cricket team and individual players for the sake of this country Pakistan.

Please see below how Pakistani Fans react after losing the game.


A Pakistani cricket fan reacts after his national cricket team lost the Cricket World Cup 2011 second semi-final match against India, on a huge screen on a street in Islamabad on March 30, 2011. India beat Pakistan by 29 runs on March 30 to set-up a World Cup final against Sri Lanka in Mumbai on April 2


Pakistanis react while watching on a large screen their national team play India in an ICC Cricket World Cup semi-final match, in Islamabad March 30, 2011. India kept alive a billion dreams after sinking Pakistan by 29 runs in their World Cup semi-final on Wednesday and set up an all-Asian final against Sri Lanka.


Pakistanis react while watching on a large screen their national team play India in an ICC Cricket World Cup semi-final match, in Islamabad March 30, 2011. India kept alive a billion dreams after sinking Pakistan by 29 runs in their World Cup semi-final on Wednesday


Pakistani cricket fans react after their national cricket team lost the Cricket World Cup 2011 second semi-final match against India, on a huge screen at a street in Islamabad on March 30, 2011.India beat Pakistan by 29 runs on March 30


A Pakistani cricket fan reacts after his national cricket team loss the Cricket World Cup 2011 second semi-final match against India, on a huge screen at a street in Islamabad on March 30, 2011.India beat Pakistan by 29 runs on March 30


Pakistan cricket fans in gloomy mood during the last overs of the Pakistani-India cricket match


Pakistani cricket fans watch the Cricket World Cup second semi-final match between Pakistan and India on a huge outdoor screen in Islamabad on March 30, 2011

Sadness Attack on India vs Pakistan Semifinal ICC World Cup 2011 at Mohali

No matter what, we still neighbors each other and we'll back soon to win again.


Our prayers for you Pakistan Cricket Team



Source of article Article : http://www.dotcrush.com/?p=379